نئی دہلی، 23 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) احمد آباد میں آج صبح ووٹنگ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اڑیسہ کے کیدرپاڑا پہنچے۔یہاں انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پہلے بھی مرکز اور ریاست میں کئی حکومتیں دیکھی ہیں، لیکن یہ وہ حکومت ہے جس پر پانچ سال میں کرپشن کا ایک بھی الزام نہیں لگا ہے۔اس کے بعد پی ایم مودی بالاسور میں ریلی سے خطاب کرنے پہنچے۔کیدرپاڑا میں راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ جو جھوٹے الزام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ آج خود کٹہرے میں کھڑے ہیں۔انہوں نے بی جے پی کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ یہ بری طرح بوکھلای ہوئی ہے،یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے کارکنوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں بی جے پی کے ہر کارکن کو، اڑیسہ کے ہر ووٹر کو کہوں گا کہ آپ مکمل مضبوطی سے ڈٹے رہئے۔اڑیسہ میں بی جے ڈی کا جانا اور بی جے پی کا آنا طے ہے،جو مخالف ہیں ان میں حکومت کے کاموں پر سوال اٹھانے کی طاقت نہیں ہے، لہذا بوکھلاہٹ میں مجھے گالی دیتے ہیں۔بی جے ڈی بری طرح بوکھلای ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے کارکنوں پر حملے کئے جا رہے ہیں،میں بی جے پی کے ہر کارکن کو، اڑیسہ کے ہر ووٹر کو کہوں گا کہ آپ کو مکمل مضبوطی سے ڈٹے رہئے۔مودی نے پٹنائک حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فصل کو محفوظ رکھنے کے لئے کولڈ اسٹوریج کیوں نہیں بنے؟ لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہے کہ اڑیسہ کی سب سے پرانی میونسپلٹی ہونے کے باوجود کیدرپاڑا سڑک، سیور، بجلی، پانی کے مسئلے سے کیوں دوچار ہے،وہ نوجوان جو قریب قریب اسی وقت پیدا ہوا تھا، جب یہاں بی جے ڈی کی حکومت بنی تھی، وہ آج جواب مانگ رہا ہے،وہ پوچھ رہا ہے کہ ایک پوری کی پوری نسل بڑی ہو گئی، لیکن پھر بھی یہاں فرار کیوں نہیں رکا؟ کیوں یہاں صنعت نہیں لگی، آبپاشی کی سہولیات کیوں نہیں تیار ہوئی۔پی ایم مودی نے کہا کہ یہاں کا نوجوان جو پہلی بار ووٹ ڈال رہا ہے، وہ اپنی خواہشات کا اڑیسہ چاہتا ہے، 21 ویں صدی کا اڑیسہ چاہتا ہے،وہ اب سوال پوچھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ملک کی سب سے زیادہ خوشحال ریاست میں اتنی زیادہ غربت کیوں ہے۔